شاملاتِ دہ – قانونی رہنمائی (آزاد کشمیر)
شاملاتِ دہ سے مراد وہ اراضی ہے جو کسی ایک فرد کی ذاتی ملکیت نہیں ہوتی بلکہ پورے گاؤں یا برادری کی مشترکہ ملکیت سمجھی جاتی ہے۔ اس میں چراگاہیں، راستے، قبرستان، پانی کے راستے اور دیگر عوامی استعمال کی زمین شامل ہوتی ہے۔
قانون کے مطابق شاملاتِ دہ زمین پر ذاتی قبضہ، فروخت یا تعمیر غیر قانونی ہے۔ اس زمین کو صرف اجتماعی مفاد اور عوامی ضرورت کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اگر شاملاتِ دہ زمین پر قبضہ یا تنازع پیدا ہو جائے تو متاثرہ فریق مجسٹریٹ کورٹ یا آزاد کشمیر ہائی کورٹ سے قانونی رجوع کر سکتا ہے۔
کیس اسٹڈی – شاملاتِ دہ پر غیر قانونی قبضہ
حقیقتِ حال:
ایک شخص نے گاؤں کی شاملاتِ دہ زمین پر ذاتی رہائشی مکان کی تعمیر شروع کر دی۔
قانونی نکتہ:
ریونیو ریکارڈ (فرد اور جمعبندی) میں زمین شاملاتِ دہ درج تھی، اس لیے ذاتی ملکیت کا دعویٰ قانوناً قابلِ قبول نہ تھا۔
قانونی کارروائی:
متاثرہ دیہاتیوں نے تحصیلدار کے سامنے درخواست دائر کی۔
موقع پر معائنہ کیا گیا اور ریکارڈ کی تصدیق ہوئی۔
مجسٹریٹ نے فوری طور پر تعمیر روکنے اور قبضہ ختم کرنے کا حکم صادر کیا۔
نتیجہ:
غیر قانونی قبضہ ختم کر دیا گیا اور زمین دوبارہ عوامی استعمال کے لیے بحال کر دی گئی۔
سبق:
شاملاتِ دہ زمین پر وقتی یا طویل قبضہ بھی قانونی حق پیدا نہیں کرتا۔
ہائی کورٹ کے لیے قانونی ڈرافٹ (نمونہ پیرا)
چونکہ متنازعہ اراضی ریونیو ریکارڈ کے مطابق شاملاتِ دہ ہے، جو عوامی مفاد اور اجتماعی استعمال کے لیے مختص ہے، اس لیے کسی فرد کو اس پر ذاتی ملکیت یا تعمیر کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں۔
مدعا علیہ کا قبضہ قانون اور آئین کے منافی ہے، جس سے درخواست گزار اور عام عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
معزز عدالت سے مؤدبانہ استدعا ہے کہ غیر قانونی قبضہ ختم کرنے اور شاملاتِ دہ اراضی کو اس کی اصل حیثیت میں بحال کرنے کا حکم صادر فرمایا جائے۔



